مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ ایران سید علی خامنهای کی قیادت میں مزید طاقتور ہوکر نکھر رہا ہے۔
شہید کمانڈروں کی یاد میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ آج ہم تینوں شہداء یعنی شیخ راغب حرب، سید عباس الموسوی اور حاج عماد مغنیہ کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں، جنہوں نے اپنی جان اور مال کے ذریعے پیغمبر اسلام ﷺ کے راستے میں جهاد کیا۔ مؤمن وہ ہیں جو وعدہ وفا کرتے ہیں اور اس راہ کو ثابت قدمی سے جاری رکھتے ہیں۔ حزب اللہ خدا کے حکم سے اسی راستے پر گامزن ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تینوں شہداء خصوصیات میں مختلف تھے لیکن ان میں مشترک پہلو یہ تھا کہ وہ اسلام کے اصولوں اور شریعت اسلامی کے پابند تھے۔
حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ ہر قبضہ چاہے کہیں بھی ہو، مزاحمت کے بغیر ختم نہیں ہوسکتا۔ لبنان میں حزب اللہ ایک مزاحمتی تحریک کے طور پر موجود ہے اور مزاحمت کی ذمہ داری نہ صرف فوج، حکومت بلکہ عوام پر بھی ہے۔ مزاحمت لبنان کی تاریخ کا حصہ ہے۔ مزاحمت ایک قومی، اسلامی اور انسانی فریضہ ہے، کیونکہ کوئی بھی انسان حقیقی جذبات کے ساتھ قبضے کو قبول نہیں کرسکتا۔
شیخ نعیم قاسم نے اسرائیل کی جارحیت اور غزہ کی صورتحال پر روشنی ڈالی اور کہا کہ غزہ کا 60 فیصد حصہ براہ راست قبضے میں ہے اور 40 فیصد روزانہ جارحیت کا شکار ہے۔ امریکہ اس سب میں شریک ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ دشمن صرف کاغذ پر معاہدے پر عمل کرے گا، حقیقت میں نہیں۔ انہوں نے تاریخی معاہدات جیسے اوسلو اور مادرید کے تجربات کا حوالہ دیا اور کہا کہ آج فلسطین میں ہونے والے ہر واقعے کی ذمہ داری امریکی قیادت پر ہے۔
نعیم قاسم نے لبنان کی حکومت کو بھی خبردار کیا کہ مفت رعایتیں دشمن کو مزید گستاخ کرتی ہیں اور ان کے مسلسل اقدامات اور انحصار اسلحہ کے منصوبے دشمن کے مقاصد کو تقویت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عالمی امداد کے محتاج نہیں اور اپنے وسائل سے ملک کی بحالی اور خودمختاری حاصل کرسکتے ہیں، اور لبنان میں کسی خارجی کنٹرول کو قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ حزب اللہ نہ جنگ کے خواہاں ہے اور نہ جارحیت شروع کرے گی، لیکن کسی بھی تجاوز کے خلاف دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے واضح کیا کہ ایران، امام خامنهای کی قیادت میں، مضبوط، مؤثر اور خطے میں نکھر کر سامنے آرہا ہے۔
آپ کا تبصرہ